احمد بن محمد بن خالد برقی احمد بن محمد برقی کے نام سے مشہور امام جواد اور امام ھادی علیہا السلام کے اصحاب میں سے ہیں آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ یوسف بن عمر آپ کے تیسرے دادا کو جیل میں بند کر دیا ہے اور زید بن علی کی شہادت کے بعد انہیں قتل کر دیا ہے۔ اس وقت خالد اپنے والد کے ساتھ قم ہجرت کی اور برقہ نامی دیہات میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں اسی لئے آپ کو برقی کہا جاتا ہے۔ احمد بزرگ شیعہ علماء اور مئولفین میں سے ہیں آپ 274ء یا 280ئھ میں فوت ہوئے۔ بہت سے علماء رجال نے آپ کو ثقہ اور قابل اطمینان جانا ہے۔ لیکن اس اعتبار سے کہ ضعیف افراد سے حدیث کو نقل کیا ہے۔ قمی علماء نے مذمت کی ہے۔ اس اعتبار سے احمد بن محمد بن محمد عیسیٰ کہ جو اس زمانہ میں علماء قم کے رئیس تھے انہیں قم سے دربدر کر دیا۔ لیکن کچھ مدت کے بعد آپ کو واپس بلا لیا اور آپ کے جنازہ میں ننگے سر و پاؤں شرکت کی تاکہ آپ سے کی گئی توہین کا کچھ ازالہ کرسکیں۔ نجاشی کہ جو شیعہ علم رجال کی مشہور شخصیت ہیں فرماتے ہیں۔ آپ خود مورد اطمینان تھے۔ اورضعیف افراد سے بھی روایت بیان کرتے ہیں اور مرسل و بغیر سند حدیث پر بھی اعتماد کرتے ہیں شیخ الطائفة اور علامہ حلی بھی آپ کو قابل اطمینان سمجھتے ہیں۔ برقی کے بہت سے قلمی آثار ہیں۔ مشہور کتاب المحاسن کہ جو سو کتابوں پر مشتمل مختلف فقہی موضوعات‘ احکام‘ آداب‘ علل الشرائع وغیرہ کو جمع کیا ہے۔ اب ان کتابوں میں سے صرف گیارہ کتابیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ کہ فقط دو جلدیں چھپ سکی ہیں۔ علامہ مجلسی برقی کی کتاب محاسن کو معتبر شیعہ اصول میں سے سمجھتے ہیں۔ شیخ صدوق اور کلینی بھی محاسن پر اعتماد کرتے ہیں اور بہت سی روایات کو اس سے نقل کرتے ہیں۔ برقی دو سو آدمیوں سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض یہ ہیں۔ احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی‘ حسن بن محبوب‘ حماد بن عیسیٰ اسی طرح محمد بن الحسن الصفار‘ علی بن ابراہیم ‘ محمد بن الحسن بن الولید نے آپ سے روایات کو سنا ہے۔ |
No comments:
Post a Comment