Search

Thursday, March 25, 2010

Salat-ul-Istikhara

Salat-ul-Istikhara

[Sahih Bukhari : Volume 2, Book 21, Number 263]

Narrated Jabir bin 'Abdullah (Radi Allah Anhu): The Allah's Apostle (sal-allahu-alleihi-wasallam) used to teach us the way of doing Istikhara (Istikhara means to ask Allah to guide one to the right sort of action concerning any job or a deed), in all matters as he taught us the Suras of the Quran. He said, "If anyone of you thinks of doing any job he should offer a two Rakat prayer other than the compulsory ones and say (after the prayer):

'Allahumma inni astakhiruka bi'ilmika, Wa astaqdiruka bi-qudratika, Wa as'alaka min fadlika al-'azlm Fa-innaka taqdiru Wala aqdiru, Wa ta'lamu Wala a'lamu, Wa anta 'allamu l-ghuyub. Allahumma, in kunta ta'lam anna hadha-l-amra Khairun li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati amri (or 'ajili amri wa'ajilihi) Faqdirhu wa yas-sirhu li thumma barik li Fihi, Wa in kunta ta'lamu anna hadha-lamra shar-run li fi dini wa ma'ashi wa'aqibati amri (or fi'ajili amri wa ajilihi) Fasrifhu anni was-rifni anhu. Waqdir li al-khaira haithu kana Thumma ardini bihi.'

(O Allah! I ask guidance from Your knowledge, And Power from Your Might and I ask for Your great blessings. You are capable and I am not. You know and I do not and You know the unseen. O Allah! If You know that this job is good for my religion and my subsistence and in my Hereafter--(or said: If it is better for my present and later needs)--Then You ordain it for me and make it easy for me to get, And then bless me in it, and if You know that this job is harmful to me In my religion and subsistence and in the Hereafter--(or said: If it is worse for my present and later needs)--Then keep it away from me and let me be away from it. And ordain for me whatever is good for me, And make me satisfied with it).

The Prophet (sal-allahu-alleihi-wasallam) added that then the person should name (mention) his need."

Namaz (Prayer) Need



Looking Mirror



Wearing Clothes



Toilet Out




Toilet Entrance

For Safety



Dua of Qurbani


Dua-e-Qunoot



Namaz-e-Jenaza For Girl



Namae-e-Jenaza For Boy


Namaz-e-Jenaza For Adult Male &Female


After Food

Before Food

Before Sleeping

After Awakening


6 Kalmy

Second Kalimah
First Kalimah
Fourth Kalimah
Third Kalimah
Sixth Kalimah
Fifth Kalimah

Islam Kar Tasuwar Parda

Hijab : Muslim Khawateen Ka Fakhr, Haq aur Waqar

Hijab Aurat ki Asmat w Iffat ki Alamat

Europe main Iskarf parbandi

Sab hi to bura nahi

France main Burqe Par Pabandi

QADIYANIAT







QADIYANIAT:- (so called Ahmediyyat ) is a non-genuine maneuvered ideology, invented by anti-Islam imperialist forces, aiming at shaking the very foundations of Islam. Qadiayanis are nothing but a gang of traitors, apostates and infidels, and yet many still accompany them out of confusion and lack of knowledge. The purpose of this site is to disclose the anti-Islamic character of these heretics and provide relevant information to those who need it. Needless to say that it is the primary religious duty of every Muslim to struggle against this evil.





حدیث راویان حدیث علی بن ابراہیم قمی

حدیث
راویان حدیث
علی بن ابراہیم قمی

علی بن ابراہیم قمی

علی بن ابراہیم قم کے بزرگ مصنفین ‘ محدثین اور حدیث کے برجستہ ترین اساتذہ میں سے ہیں۔ شیعہ علماء رجال آپ کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں اور ثقہ فی الحدیث جیسی تعابیر استعمال کرتے ہیں

آپ کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ گویا آپ امام حسن عسکری کے زمانے میں شیعہ روات میں سے تھے اور 307ئھ تک زندہ رے آپ کی وفات کی صحیح تاریخ لکھی نہیں گئی۔

علی بن ابراہیم نے بہت سی روایات کو سنا اور بہت سی کتابوں کو تالیف کیا آپ وسط عمر میں نابینا ہو گئے۔ آپ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں یہی کافی ہے کہ ثقة الاسلام کلینی نے اپنی کتاب کافی میں آپ کی بہت سی احادیث کو بیان کیا ہے۔ دعاؤں کی سند‘ مسجد سہلہ کے اعمال کہ جو سب کے نزدیک قابل قبول ہیں کی سند آپ تک ہی پہنچتی ہے۔

آپ کے والد ابراہیم بن ہاشم امام رضا کے اصحاب میں سے اور یونس بن عبدالرحمن کے شاگرد تھے کہ جو کوفہ سے قم آئے آپ ان پہلے افراد میں سے ہیں کہ جنہوں نے اہل کوفہ کی احادیث کو قم میں نشر کیا۔ علماء قم میں ان روایات کا منتشر ہونا ان کی قبولیت کی دلیل ہے۔ آپ کے بیٹے علی نے بھی بہت سی روایات کو اپنے والد سے سنا۔

علی بن ابراہیم کا نام سات ہزار روایات میں موجود ہے اور تفسیر قمی کہ جو اس وقت بھی علماء و محقیقین کے لئے قابل استفادہ ہے آپ کی تالیفات میں سے ہے۔ الناسخ والمنسوخ‘ المغازی الشرائع اور قرب الاسناد آپ کی دیگر کتابوں میں سے ہیں۔

آپ نے احمد بن ابی عبداللہ ‘ اسحاق بن ابراہیم‘ عبداللہ بن الصلت‘ محمد بن عیسیٰ اور بہت سے دوسروں سے روایت کو سنا ہے اور شیخ کلینی ‘ حسن بن حمزہ علوی نے آپ سے روایت کو نقل کیا۔

حسین بن سیدا ھوازی

بزرگ شیعہ فقیہ‘ محدث حسین بن سعید اھوازی اورآپ کے بھائی حسن دونوں اصحاب امام رضا ‘ امام تقی ‘ امام نقی میں سے ہیں۔ آپ کے دادا حماد بن سعید امام زین العابدین کے دوستوں میں سے ہیں۔ یہ دونوں بھائی اہل کوفہ میں سے تھے۔ لیکن بعد میں اھواز منتقل ہو گئے اور حسین قم آئے اور حسن بن ابان کے گھر قیام کیا اور تقریباً 300ء ھ میں فوت ہوئے۔

شیعہ علماء نے ان دونوں بھائیوں پر اعتماد کیا ہے اور ثقہ اور جلیل القدر جیسے الفاظ سے تعریف کی ہے۔ دونوں بھائیوں نے شیعہ مذہب کی ترویج و اشاعت کے لئے بہت کوششیں کی ہیں۔ حسن بن سعید علی بن مھزیار اور اسحاق بن ابراہیم اور علی بن ریان کی ہدایت کا سبب بنے اور انہیں امام رضا کی خدمت میں پہنچایا۔ ان دونوں بزرگوں کی خصوصیات میں دونوں کا ملکر تالیفاتی کام انجام دینا ہے۔ علم رجال کے منابع میں 30آثار ان بھائیوں کے نام سے درج ہیں۔ حسین بن سعید کی کتاب الزھد خاص شہرت رکھتی ہے اور اس وقت بھی محققین اس سے بھرہ مند ہو رہے ہیں۔ ابن ندیم ان دونوں کی توصیف میں لکھتے ہیں ہر کسی سے فقہ ‘ آثار‘ مناقب اور علوم شیعہ میں دانا ترہیں۔

شیخ صدوق بھی حسین بن سعید کی کتابوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ حسین بن سعید کا نام سلسلہ سند میں تقریبا ً پانچ ہزار مرتبہ آیا ہے۔ ابن ابی عمر‘ حسن بن محبوب‘ احمد بن محمد بن ابی نصر‘ عثمان بن عیسیٰ‘ حماد بن عیسیٰ آپ کے اساتذہ اور سعد بن عبداللہ‘ احمد بن محمد بن خالد‘ علی بن مھزیار اور ابراہیم بن ہاشم آپ کے شاگردوں اور روایت نقل کرنے والوں میں سے ہیں۔

حدیث راویان حدیث احمد بن محمد بن خالد برقی

حدیث
راویان حدیث
احمد بن محمد بن خالد برقی

احمد بن محمد بن خالد برقی

احمد بن محمد برقی کے نام سے مشہور امام جواد اور امام ھادی علیہا السلام کے اصحاب میں سے ہیں آپ کی کنیت ابو جعفر ہے۔ یوسف بن عمر آپ کے تیسرے دادا کو جیل میں بند کر دیا ہے اور زید بن علی کی شہادت کے بعد انہیں قتل کر دیا ہے۔ اس وقت خالد اپنے والد کے ساتھ قم ہجرت کی اور برقہ نامی دیہات میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں اسی لئے آپ کو برقی کہا جاتا ہے۔ احمد بزرگ شیعہ علماء اور مئولفین میں سے ہیں آپ 274ء یا 280ئھ میں فوت ہوئے۔

بہت سے علماء رجال نے آپ کو ثقہ اور قابل اطمینان جانا ہے۔ لیکن اس اعتبار سے کہ ضعیف افراد سے حدیث کو نقل کیا ہے۔ قمی علماء نے مذمت کی ہے۔ اس اعتبار سے احمد بن محمد بن محمد عیسیٰ کہ جو اس زمانہ میں علماء قم کے رئیس تھے انہیں قم سے دربدر کر دیا۔ لیکن کچھ مدت کے بعد آپ کو واپس بلا لیا اور آپ کے جنازہ میں ننگے سر و پاؤں شرکت کی تاکہ آپ سے کی گئی توہین کا کچھ ازالہ کرسکیں۔

نجاشی کہ جو شیعہ علم رجال کی مشہور شخصیت ہیں فرماتے ہیں۔ آپ خود مورد اطمینان تھے۔ اورضعیف افراد سے بھی روایت بیان کرتے ہیں اور مرسل و بغیر سند حدیث پر بھی اعتماد کرتے ہیں شیخ الطائفة اور علامہ حلی بھی آپ کو قابل اطمینان سمجھتے ہیں۔ برقی کے بہت سے قلمی آثار ہیں۔ مشہور کتاب المحاسن کہ جو سو کتابوں پر مشتمل مختلف فقہی موضوعات‘ احکام‘ آداب‘ علل الشرائع وغیرہ کو جمع کیا ہے۔ اب ان کتابوں میں سے صرف گیارہ کتابیں ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ کہ فقط دو جلدیں چھپ سکی ہیں۔

علامہ مجلسی برقی کی کتاب محاسن کو معتبر شیعہ اصول میں سے سمجھتے ہیں۔ شیخ صدوق اور کلینی بھی محاسن پر اعتماد کرتے ہیں اور بہت سی روایات کو اس سے نقل کرتے ہیں۔

برقی دو سو آدمیوں سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض یہ ہیں۔ احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی‘ حسن بن محبوب‘ حماد بن عیسیٰ اسی طرح محمد بن الحسن الصفار‘ علی بن ابراہیم ‘ محمد بن الحسن بن الولید نے آپ سے روایات کو سنا ہے۔

حدیث راویان حدیث احمد بن محمدبن ابی نصر البزنطی

حدیث
راویان حدیث
احمد بن محمدبن ابی نصر البزنطی

احمد بن محمدبن ابی نصر البزنطی

احمد بن محمد کہ جو بزنطی کے نام سے مشہور ہیں امام رضا اور امام تقی کے محترم ترین اصحابمیں سے ہیں آپ 221ئھ میں فوت ہوئے بزنطی کے نام سے مشہور ہونے کی وجہ آپ کا پیشہ ہے کہ آپ بزنطی نامی کپڑا فروخت کرتے تھے یا سیتے تھے آپ اہل کوفہ میں سے ہیں۔ بزنطی اصحاب اجماع میں سے ہیں علماء جب روایت میں آپ کے نام تک پہنچتے ہیں اس سند سے معصوم تک اعتماد کرتے ہیں‘ شیخ طوسی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں وہ واقفی مذہب تھے چونکہ آپ نے امام رضا کی امامت کے معجزات کو دیکھنے کے بعد حق کو قبول کرلیا اور پھر آپ کے بیٹے کی امامت کے قائل ہو گئے اور امام رضا کی خاص عنایت بھی آپ کے حصہ میں آئی۔

امام رضا کی بزنطی پر خاص توجہ کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک رات جب بزنطی آپ کی خدمت میں تھے اور جب جانا چاہا حضرت نے اپنی کنیز سے کہا کہ امام کے مخصوص بستر کو بزنطی کے لئے بچھاؤ وہ خود سوچتے تھے کہ کس کو میری طرح یہ اعزاز حاصل ہے۔ کہ ولی خدا کے گھر اس کے بستر پر سوئے اور جب یہ سوچ آپ کے دماغ میں آئی امام نے اس سے کہا احمد یاد رکھو امیرالمومنین صعصعہ بن صوحان کی عیادت کے لئے گئے اور واپسی پر فرمایا صعصعة یہ کہ تیری عیادت کی اپنے دینی بھائیوں پر گھمنڈ نہ کرنا۔ خدا سے ڈرو۔ متواضع رہو تاکہ خدا تجھے بلند مقام عطا کرے۔

شیخ طوسی اور نجاشی اور ثقہ امام رضا اور امام جوادکے عظیم المنزلت اصحاب میں سے سمجھتے ہیں۔ بزنطی کا نام سلسلہ سند میں سات سو مرتبہ آیا ہے۔ دو اماموں کے علاوہ ابن ابی یعفور ابن بکیر ‘ صفوان بن یحییٰ وغیرہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابو عبداللہ البرقی‘ الحسین بن سعید‘ علی بن مھزیار آپ کے شاگرد وں اور راویان حدیث میں سے ہیں۔

حدیث راویان حدیث عبداللہ بن جعفر الحمیری


حدیث
راویان حدیث
عبداللہ بن جعفر الحمیری

عبداللہ بن جعفر الحمیری

ابو العباس عبداللہ بن جعفر حمیری قم کے بزرگ علماء اور شیعہ کے درخشندہ ستارے ہیں آپ امام علی نقی اور امام حسن عسکری کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ 290ئھ کو کوفہ میں داخل ہوئے کوفہ کے لوگ آپ کے بیانات سے استفادہ کرتے۔ آپ نے وہاں پر اپنے شاگردوں کی تربیت کرنا شروع کی۔ آپ یمنی الاصل سمجھے جاتے ۔

علماء علم رجال آپ کو ثقہ اور قابل اطمینان سمجھتے ہیں اور آپ کے بہت سے قلمی آثار کو بیان کرتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔

الامامة ‘ الدلائل‘ العظمة والتوحید‘ الغیبة والغیبة والحیرہ‘ الطب‘ المسائل و التوقیعات آپ کا ایک اور قیمتی اثر کہ جو باقی رہ گیا ہے قرب الاسناد ہے۔ قرب الاسناد وہ کتا ب ہے کہ جو قدیم محدثین میں رائج تھی۔ اس میں عالی السند احادیث اور امام تک کم واسطہ تک پہنچنے والی روایات کو جمع کیا گیا ہے۔ علی بن ابراہیم ‘ محمد بن عیسیٰ‘ یقطینی اور علی بن بابویہ بھی قرب الاسناد رکھتے ہیں لیکن صرف قرب الاسناد حمیری ہی اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

کہ جس میں نزدیک ترین سند امام صادق اور امام کاظماور امام رضا تک پہنچنے والی روایات کو جمع کیا گیا ہے۔

ابراہیم بن شھریار‘ احمد بن حمزہ‘ محمد بن عیسیٰ آپ کے اساتذہ اور احمد بن محمد‘ سعد بن عبداللہ ‘ محمد بن سعید آزربائیجانی کو آپ کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

محمد بن عبداللہ آپ کے بیٹے نے بھی آپ کے علم سے فائدہ اٹھایا بعض قرب الاسناد کو آپ کے ساتھ نسبت دیتے ہیں۔

حدیث راویان حدیث محمد بن عثمان

حدیث
راویان حدیث
محمد بن عثمان

محمد بن عثمان

محمد‘ عثمان بن سعید کے بیٹے‘ حضرت امام مہدی کے دوسرے نائب خاص کہ جو امام حسن عسکری کے حکم اور اپنے والد کی تصریح پر امام زمان عج کے نائب مقرر ہوئے اور پچاس سال تک یہ شرف آپ کوحاصل رہا اور 305ئھ میں فوت ہوئے۔ امام مہدی کے وکیل اور بلند مقام و منزلت کے حامل تھے۔ احمد بن احسان امام حسن عسکریسے سوال کرتے ہیں کہ کس کے حکم پر عمل کروں اور کس سے احکام دینی پوچھوں اور کس کے قول کو قبول کروں۔

امام فرماتے ہیں۔ عثمان بن سعید اور ان کے بیٹے دو آدمی موثق ہیں پس ان دونوں کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو کہ وہ ثقہ اور امانت دار ہیں۔

محمد نے اپنے گھر میں قبر بنا رکھی تھی اور ایک لوح کہ جس پر قرآنی آیات اور آئمہ کے نام اس پر لکھے تھے۔ اس قبر میں رکھ دیئے اور ہر روز اس قبر میں جاتے اور ایک سپارہ قرآن کریم تلاوت کرتے پھر باہر آتے۔

امام زمان عج نے عثمان بن سعید کی وفات پر ان کے بیٹے کے نام تعزیت نامہ لکھا جس میں آپ نے فرمایا ان کی سعادت کا یہ عالم ہے کہ آپ جیسا بیٹا خدا نے انہیں عطا کیا۔ کہ جو ان کا جانشین ہوا اور ان کی سفارش پر ہی اسے اپنا نائب بنایا اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔

اس طرح امام نے اپنے خط میں لکھا خداوند ان کے بیٹے کی حفاظت کرے وہ اپنے والد کے زمانہ میں بھی قابل اعتماد تھے۔ خداوند آپ سے اور آ پ کے والد سے راضی ہو اور ان کے چہرہ کو روشن کرے۔ ان کا بیٹا ہمارے نزدیک اپنے باپ کی طرح ہے۔ ان کی جگہ پر بیٹھا ہے جو کچھ ہم سے کہتا ہے ہمارا کلام ہے۔ ہمارے حکم کے مطابق عمل کرتا ہے خداوند عالم اس کی تائید کرے۔

محمد بن عثمان پچاس سال تک امام کے وکیل اور لوگوں کے اموال کو امام تک پہنچاتے اور لوگوں کے جوابات کو اسی رسم الخط میں کہ جو امام حسن عسکری اہم دینی و دنیائی امور میں لوگوں کو جواب دیتے عبداللہ بن جعفر کو ان کے راویوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔

حدیث راویان حدیث حسن بن محبوب


حدیث
راویان حدیث
حسن بن محبوب

حسن بن محبوب

حسن‘ محبوب کے بیٹے‘ زراد یا سراد کوفی کے نام سے مشہور ہیں اور 224ئھ میں پیدا اور 75سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

حسن بن محبوب امام کاظم اور امام رضا کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ آپ امام صادق کے 60شاگردوں سے حدیث کو نقل کرتے ہیں۔

حسن بن محبوب کو اصحاب اجماع سے سمجھا گیا ہے۔ آپ ایک جلیل القدر ‘ ثقہ اور اپنے زمانے کے چار بزرگ افراد میں سے ایک تھے۔ بقیہ تین افراد۔ یونس بن عبدالرحمن‘ صفوان بن یحییٰ‘ احمد بن محمد بن ابی نصیر بزنطی کے جوار کان اربعہ کے نام سے مشہور ہیں۔

سراد یا زرار کے نام یک شہرت کا سبب آپ کے تیسرے جد وھب ہیں کہ جوزرہ بنانے والے اور جریر بن عبداللہ بجلی کوفی کے غلام تھے۔ وھب امام سے درخواست کرتے ہیں کہ جریر سے اس کو خرید لیں اور جریر کہ جو معاویہ کا معتقد تھا ۔ وھب کو آزاد کرتا ہے تاکہ ولایت کے حق کو ضائع نہ کرے لیکن وھب امام علی کے معتقد تھا اور آپکا خادم ہو جاتا ہے۔

حسن اپنے باپ کے شوق سے روایت کولکھتا ہے اور ہر روایت کو لکھنے کے بدلے میں علی بن رئاب سے ایک درہم لیتا ہے۔

امام رضا نے اسے لکھا خداوند نے تمہاری زبان پر حکمت کو جاری کیا ہے اور تائید فرمائی کہ خدا نے تجھے سیدھے راستہ پر ہدایت کی ہے۔ اور تیری آخرت کو تجھ پر آسان کرے اور اپنی اطاعت میں تجھے کامیاب کرے۔

شیخ طوسی علم رجال کے عظیم عالم آپ کو قابل اطمینان سمجھتے ہیں۔ ابن داؤد حلی بھی آپ کے بارے میں فرماتے ہیں فقہا آپ سے جو روایت کرتے ہیں صحیح جانتے ہیں۔

المسیخة ابن محبوب کی پہلی تالیف ہے کہ جوعلم رجال کے موضوع پر لکھی گئی لیکن متاسفانہ اصحاب آئمہ کی دیگر کتب کی طرح ہمارے ہاتھوں تک نہیں پہنچی۔

الحدود‘ النوارد‘ النکاح و کتاب تفیسر جیسی کتابوں کو حسن بن محبوب کی تالیف سمجھا جاتا ہے۔ ابن ابی عمیر ‘ علی بن رئاب‘ ابن سنان‘ حماد بن عیسیٰ آپ کے سایتہ اور احمد بن ابی عبداللہ البرقی علی بن مھز یار اور عبداللہ بن صلت آپ کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔


حدیث راویان حدیث یونس بن عبدالرحمن


حدیث
راویان حدیث
یونس بن عبدالرحمن

یونس بن عبدالرحمن

یونس‘ عبدالرحمن کے بیٹے تقریباً 125ئھ میں پیدا اور 208ئھ میں مدینہ میں فوت ہوئے۔ آپ اصحاب آئمہ علیھم السلام اور بلند مقام و منزلت کے حامل تھے۔ حج کے زمانے میں امام صادق کی زیارت کی لیکن آپ سے حدیث نقل نہیں کی۔ آپ نے روایات کو امام کاظم اور امام رضا سے سنا۔

یونس کی مدح و تعریف میں بہت سی احادیث آئی ہیں۔ امام رضا علم و فتویٰ کے لئے لوگوں میں آپ کی شناخت کراتے۔ امام کاظم کی شہادت کے بعد آپ کے بعض نمائندے منحرف ہو گئے کہ جو واقفیہ کہلائے انہوں نے یونس کے لئے بہت دولت و ثروت بھیجی تاکہ آپ کو حق کے راستہ سے ہٹائیں لیکن یونس نے ان کی کسی پیش کش کو قبول نہ کیا اور حق پر ثابت قدم رہے۔

بعض علماء کا نظریہ ہے کہ صفوان کا یہی رویہ باعث بنا کہ واقفیہ آپ کے دوستوں میں آپ کے روشن چہرہ کو ضرب لگائیں اور آپ کے خلا ف بدگوئی کریں۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ بصرہ کے کچھ لوگ امام رضا کی خدمت میں شرفیاب ہوئے امام یونس سے فرماتے ہیں کہ پردہ کے پیچھے چھپ جائیں۔ وہ گروہ امام کے حضور یونس کی بدگوئی کرنے کے بعد چلے گئے یونس پردہ کے پیچھے سے روتے ہوئے باہر آئے اور امام سے فرمایا میں آپ پر قربان ہو جاؤں آپ کی حمایت کرتا ہوں اور دوسروں کے نزدیک میری یہ حالت ہے۔

امام نے اس سے فرمایا۔ اے یونس ان کے کہنے سے تجھے کیا نقصان پہنچا ہے۔ جب کہ تیرا امام تجھ سے راضی ہے۔ یونس اگر تیری دائیں ہاتھ میں موتی ہو اور لوگ کہیں فضلہ ہے تو تجھے کیا نقصان پہنچے گا۔ اگر تمہارے ہاتھ میں فضلہ ہو اور لوگ کہیں موتی ہے تو کیا نفع تجھے حاصل ہو گا۔ یونس نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔

امام نے فرمایا تیرا حال بھی یہی ہے۔ اگر نیک ہو اور امامتجھ سے راضی ہے تو لوگ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔

امام حسن عسکری جب آپ کی کتاب یوم ولیلة کو دیکھتے ہیں تو فرماتے ہیں۔ خداوند ہر حرف کے بدلے قیامت کے دن اسے ایک نور عطا کرے گا۔ ہشام بن سالم بن حکم‘ ابان بن عثمان آپ کے اساتذہ اور ابن ابی عمیر‘ ابو عبداللہ البرقی‘ محمد بن عیسیٰ نے آپ سے روایت کو سنا ہے۔

حدیث راویان حدیث صفوان بن یحیی


حدیث
راویان حدیث
صفوان بن یحیی

صفوان بن یحییٰ

صفوان ‘ یحییٰ کے بیٹے‘ آپ کی کنیت ابو محمد بجلی کوفی ہے۔ آپ قیمتی ترین کپڑا سابری کے نام سے فروخت کرتے تھے اسی لئے آپ کو سابری بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے والد امام صادق کے اصحاب میں سے تھے۔ آپ خود امام کاظم‘ امام رضا ‘ امام نقی کے ساتھیوں اور راویوں اور امام رضاکے وکیل تھے آپ 210ئھ میں فوت ہوئے۔

امام تقی علیہ السلام کو آپ سے خاص محبت تھی ۔ امام نے آپ کی وفات پر اپنی طرف سے کفن اور حنوط بھیجا اور امام کاظم کے بیٹے اسماعیل کو حکم دیا کہ آپ کی نماز جنازہ پڑھائے اورایک روایت کے مطابق صفوان سے اپنی رضایت کو بیان کیا۔

صفوان تجارت میں عبداللہ بن جندب اور علی بن نعمان کے شریک تھے۔ ایک دن انہوں نے بیت اللہ الحرام میں عہد کیا کہ جو کوئی پہلے فوت ہوا جو زندہ رہے وہ دوسرے کے لئے نماز‘ روز‘ زکوٰة دے گا۔ وہ دونوں پہلے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ صفوان دن میں 150رکعت نماز پڑھتے سال میں تین مہینے روزے رکھتے۔ ہر سال تین مرتبہ زکوٰة دیتے۔ جو مستحب کام بھی بجا لاتے ان دونوں کے لئے بھی انجام دیتے۔

صفوان اصحاب اجماع میں سے ہیں شیعہ علماء بالاتفاق آپ کی روایات کے صحیح ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ نجاشی آپ کو ثقہ‘ عین ثقہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ شیخ طوسی صفوان کو علماء حدیث کے نزدیک موثق ترین افراد میں سے سمجھتے ہیں۔ آپ اپنے زمانے کے عبادت گزار ترین افراد میں سے تھے۔

صفوان نے 30کتابیں تصنیف کیں اور آپ کا نام سلسلہ سند میں 1100سے زیادہ مرتبہ آیا ہے۔ صفوان نے ابن ابی عمیر‘ ابن بکیر ‘حماد بن عثمان‘ عبداللہ بن سنان اور دوسروں سے روایت کو سنا ہے اور احمد بن محمد بن ابی البزنطی‘ محمد بن خالد البرقی‘ فضل بن شاذان نیشاپوری وغیرہ نے آپ کی حدیث کو نقل کیا ہے۔

حدیث راویان حدیث زرارة بن اعین


حدیث
راویان حدیث
زرارة بن اعین

زرارة بن اعین

آل اعین ‘ کوفہ میں شیعہ مذہب خاندان تھا۔ یہ خاندان امام سجاد سے غیبت کبریٰ تک اہل بیت کے ساتھ تھے۔ اعین کا معنی کھلی آنکھ والا ہے۔ زرارہ بن اعین کے والد ایک رومی غلام تھے کہ جنہیں قبیلہ بنی شیبان نے شہر حلب سے خریدا اور قرآن کریم پڑھانے اور تعلیمات دین سکھانے کے بعد آزاد کر دیا۔ اعین کے بیٹے بزرگ شیعہ علماء میں سے ہیں۔ زرارہ کا نام اعین کے دیگر بیٹوں سے زیادہ روشن تر ہے۔

زرارة 80ئھ میں پیدا ہوئے اور 150ئھ میں امام صادق کی شہادت کے دو ماہ سے کم عرصہ بعد میں فوت ہوئے آپ امام محمد باقر و امام جعفر صادق کے مخلص ترین اور قابل اعتماد ترین راویوں میں سے تھے۔ آپ نے فقہ‘ حدیث ‘ کلام ‘ ادب اور شعر کو سیکھا لیکن فقہ میں آپ کی مہارت زیادہ ہے فقہ کا کوئی باب ایسا نہیں کہ جس میں زرارہ کی حدیث موجود نہ ہو۔ شیعہ حدیثی آثار میں زرارہ سے دو ہزار حدیث منقول ہے۔

زرارہ ان لائق اور با معرفت ترین افراد میں شامل ہے کہ جسے وہ مقدس کتاب دیکھنا نصیب ہوئی جو پیغمبر اکرم نے حضرت علی کو املا کی صورت احکام شریعت لکھائے تھے۔

امام باقر نے زرارہ کو جنت کی بشارت دی اور فرمایا۔ خد ا پر یہ حق ہے کہ آپ کو جنت میں جگہ دے۔ امام صادق نے بھی آپ سے جنت کا وعدہ کیا۔

علماء رجال نے بھی آپ کی تعریف کی ہے۔ معروف شیعہ رجال کے عالم نجاشی کہتے ہیں۔ زرارہ ہمارے بزرگ اساتذہ‘ فقیہ‘ متکلم‘ شاعر‘ ادیب‘ علم قرائت کے استاد تھے۔ تمام ذاتی و دینی خصوصیات آپ میں جمع تھیں۔

آپ سچے‘ قابل اعتماد‘ اپنے زمانے کے تمام اصحاب میں سے مقدم تھے۔ زرارہ کی بہت سی تالیفات ہیں۔ لیکن صرف الاستطاعة و الجبر والعھود کتاب ہی آپ کے نام سے لکھی گئی۔ ہشام بن سالم‘ عمر بن اذینہ‘ بن دواج آپ کے اساتذہ اور بکیر بن اعین‘ حمران بن اعین وغیرہ نے آپ سے حدیث کو نقل کیا ہے-

حدیث راویان حدیث ابو بصیر


حدیث
راویان حدیث
ابو بصیر

ابو بصیر

ابو بصیر‘ اصحاب امام باقر و امام صادق علیھا السلام کہ جو یحییٰ بن ابی القاسم اسدی اور میت بن بختر مرادی کے ناموں سے مشہور ہیں۔

بہت سی روایات میں ابو بصیر کا نام بغیر کسی قید کے سند میں ذکر کیا گیا ہے کہ دیگر قرائن کی مدد سے ہی راوی کی شخصیت کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ بہت سے علماء علم رجال نے آپ کو ثقہ اور مورد اطمینان قرار دیاہے۔

ابو بصیر یحییٰ‘ ابو القاسم اسدی کے بیٹے‘ شیعہ علماء میں سے تھے آپ 150ئھ میں فوت ہوئے‘ آپ کی کنیت ابو محمد ہے ممکن ہے کہ آپ کو ابو بصیرا س لئے کہا جاتا ہے چونکہ آپ بینائی سے محروم تھے۔ ابو بصیر اسدی‘ امام باقر ‘ صادق علیہ السلام کے شاگردوں میں سے تھے اور بہت سی فقہی‘ اعتقادی روایات آپ نے نقل کی ہیں۔ آپ کا شمار شیعہ رہبری کے ایک قطب کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ آپ نے فکری و اعتقادی لحاظ سے مختاریہ اور زیدیہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ابو بصیر اسدی نے زندگی کے آخری دو سال امام کاظم کی امامت کو شروع ہوئے دو سال گزرے اور امام کاظم کا ساتھ دیتے ہوئے فطحیہ کا مقابلہ کیا۔ اور امام کاظم کے ممتا ز اصحاب میں سے آپ کا شمار ہوتا تھا۔ ابو بصیر اصحاب اجماع میں سے ہیں تمام شیعہ علماء نے آپ کی تعریف کی ہے۔

ابو بصیر حدیث کو نقل کرتے ہیں کہ جو لوح حدیث کے نام سے مشہور ہے اور بارہ اماموں پر اعتقاد کو مطرح کیا گیا ہے۔

آپ نے ابو حمزہ ثمالی‘ صالح بن میثم اور دوسروں سے روایت نقل کی ہے اور ابان بن عثمان ‘ عاصم بن حمید‘ عبداللہ بن حماد انصاری جیسوں نے آپ سے روایت کو نقل کیا ہے۔


حدیث راویان حدیث ابو حمزہ ثمانی


حدیث
راویان حدیث
ابو حمزہ ثمانی

ابو حمزہ ثمانی

ثابت بن دینار‘ پرہیز گار ترین علماء میں سے ہیں۔ کہ جنہوں نے اہل بیت کی عصمت و طہارت سے تربیت حاصل کی اور تشیع و ولایت کے مرکز کوفہ میں نشوونما پائی آپ نامور علمی شخصیت اور تشیع کے اہم ستونوں میں سے تھے۔ آپ کی کنیت ابو حمزہ مشہور ہے اسی لئے اکثر آپ کو ابو حمزہ ثمالی کہا جاتا ہے ثمالی کی وجہ شہرت اس لئے ہے کہ آپ کی قوم دودھ کہتھیلی پر رکھ کر پیتے تھے۔ یا اس لئے کہ آپ کے سوا آپ کے خاندان کے تمام افراد قتل ہو گئے۔

ابو حمزہ ثمالی ‘ امام زین العابدین ‘ امام محمد باقر ‘ امام صادقکے اصحاب میں سے تھے اور 150ئھ میں ستر سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ آئمہ معصومین نے ابوحمزہ کی شخصیت کی تعریف و تمجید کی ہے۔

امام صادق آپ کے بارے میں فرماتے ہیں ابو حمزہ اپنے زمانے میں سلمان کی طرح ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جب میں ابو حمزہ کو دیکھتا ہوں تو سکون محسوس کرتا ہوں۔ امام موسیٰ کاظم ابو حمزہ کو ان مومنوں میں سے سمجھتے ہیں کہ خداوند نے جن کے دلوں کو نورانی کیا اور صحیح علم و دانش عطا کی۔

علماء رجال نے ثقہ‘ عادل کے الفاظ سے تعریف کی ہے اور آپ کو امام سجاد کے قریب ترین افراد میں سے فقہ‘ کلام‘ تفسیر اور عرفان میں ابو حمزہ نے بہت سی روایات بیان کی ہیں ان کے علاوہ رمضان المبارک میں دعائے سحر کو ابو حمزہ ‘ امام زین العابدین سے نقل کرتے ہیں رسالة الحقوق‘ کتاب الزھد و النور آپ کی تالیفات میں سے ہیں۔

زید بن علی بن الحسین‘ جابر بن عبداللہ الانصاری‘ عبداللہ بن الحسن اور اصبغ بن نباتہ آپ کے اساتذہ میں سے ہیں حسن بنا محبوب‘ امان بن عثمان‘ ہشام بن سالم‘ محمد بن مسلم کے علاوہ 100سے زائد علماء آپ کے شاگردوں کی فہرست میں شامل ہیں۔


حدیث راویان حدیث محمد بن ابی عمیر


حدیث
راویان حدیث
محمد بن ابی عمیر

محمد بن ابی عمیر

محمد‘ زیاد کے بیٹے‘ آپ کی کنیت ابو احمد ازدی ہے۔ آپ کو اکثر اپنے والد کی کنیت سے ہی مشہور ہیں۔ آپ امام موسیٰ کاظم ‘ امام علی رضا ‘امام محمد تقی کے اصحاب میں سے ہیں اور 217ئھ میں فوت ہوئے۔ شیعہ و سنی علماء نے آپ پر اطمینان کیا ہے۔

آپ اصحاب اجماع اور اصول اربعماة میں سے ایک اصول کے مئولف بھی ہیں۔ آپ اپنے زمانے کے عابد ترین اور پرہیز گار ترین افراد میں سے تھے۔

حافظ ‘ مشہور سنی عالم دین‘ قحطان کے لوگوں کی عدنان پر برتری میں ابن ابی عمیر کا نام لیتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے۔

محمد بن ابی عمیر حدیث کو بیان کرنے میں نہایت دقت سے کام لیتے تھے۔ باوجود اس کے کہ آپ نے اہل سنت علماء سے بھی بہت کچھ سنا تھا لیکن کہیں بھی ان سے نقل نہیں کیا۔ تاکہ آئمہ کا کلام ان کے کلام سے مل نہ جائے۔ ہارون الرشید نے آپ کو مجبور کیا کہ امام کاظم کے کچھ شیعوں کے نام بتائے یا کسی شہر کے قاضی کے منصب کو قبول کرے لیکن آپ نے اس کی ان تجاویز سے ہرگز اتفاق نہ کیا۔ اسی لئے اس نے آپ کو قید میں بند کر دیا اور تازیانے مارے گئے۔ اسی دوران آپ کی بہن نے آپ کی 94جلد کتابوں کو زمین میں چھپایا کہ جو بعد میں ضائع ہو گئیں۔ آپ انتہائی عبادت گزار تھے بعض اوقات صبح کی نماز کے بعد سجدے میں سر رکھتے اور ظہر کے وقت اٹھاتے۔

ابن ابی عمیر بھی ایک تاجر اور دولتمند شخص تھے جب چار سال کے بعد جیل سے نکلے تو آپ کی تمام جمع شدہ ثروت ختم ہو چکی تھی۔ اس وقت ایک شخص کہ آپ کا مقروض تھا اس نے اپنے گھر کو بیچا اور ایک ہزاردرہم آپ کے لئے لایا لیکن آپ نے وہ رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا بے شک مجھے ایک درہم کی بھی ضرورت ہے لیکن امام صادق نے فرمایا‘ مقروض شخص کو قرض کی وجہ سے اپنے گھر سے نہیں نکالنا چاہئے۔

آپ کی بعض کتب میں الاحتجاج فی الامامة‘ الکفروالایمان‘ اختلاف الحدیث وغیرہ شامل ہیں ابوبصیر‘ ابان بن عثمان اور جمیل دراج‘ جیسی بزرگ شخصیات آپ کے اساتذہ میں سے ہیں اور ابوعبداللہ برقی‘ ابراہیم بن ہاشم اور محمد بن عیسیٰ وغیرہ جیسوں نے آپ سے روایت کو سنا ہے۔