علی بن ابراہیم قمی علی بن ابراہیم قم کے بزرگ مصنفین ‘ محدثین اور حدیث کے برجستہ ترین اساتذہ میں سے ہیں۔ شیعہ علماء رجال آپ کو قابل اعتماد سمجھتے ہیں اور ثقہ فی الحدیث جیسی تعابیر استعمال کرتے ہیں آپ کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ گویا آپ امام حسن عسکری کے زمانے میں شیعہ روات میں سے تھے اور 307ئھ تک زندہ رے آپ کی وفات کی صحیح تاریخ لکھی نہیں گئی۔ علی بن ابراہیم نے بہت سی روایات کو سنا اور بہت سی کتابوں کو تالیف کیا آپ وسط عمر میں نابینا ہو گئے۔ آپ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں یہی کافی ہے کہ ثقة الاسلام کلینی نے اپنی کتاب کافی میں آپ کی بہت سی احادیث کو بیان کیا ہے۔ دعاؤں کی سند‘ مسجد سہلہ کے اعمال کہ جو سب کے نزدیک قابل قبول ہیں کی سند آپ تک ہی پہنچتی ہے۔ آپ کے والد ابراہیم بن ہاشم امام رضا کے اصحاب میں سے اور یونس بن عبدالرحمن کے شاگرد تھے کہ جو کوفہ سے قم آئے آپ ان پہلے افراد میں سے ہیں کہ جنہوں نے اہل کوفہ کی احادیث کو قم میں نشر کیا۔ علماء قم میں ان روایات کا منتشر ہونا ان کی قبولیت کی دلیل ہے۔ آپ کے بیٹے علی نے بھی بہت سی روایات کو اپنے والد سے سنا۔ علی بن ابراہیم کا نام سات ہزار روایات میں موجود ہے اور تفسیر قمی کہ جو اس وقت بھی علماء و محقیقین کے لئے قابل استفادہ ہے آپ کی تالیفات میں سے ہے۔ الناسخ والمنسوخ‘ المغازی الشرائع اور قرب الاسناد آپ کی دیگر کتابوں میں سے ہیں۔ آپ نے احمد بن ابی عبداللہ ‘ اسحاق بن ابراہیم‘ عبداللہ بن الصلت‘ محمد بن عیسیٰ اور بہت سے دوسروں سے روایت کو سنا ہے اور شیخ کلینی ‘ حسن بن حمزہ علوی نے آپ سے روایت کو نقل کیا۔ حسین بن سیدا ھوازی بزرگ شیعہ فقیہ‘ محدث حسین بن سعید اھوازی اورآپ کے بھائی حسن دونوں اصحاب امام رضا ‘ امام تقی ‘ امام نقی میں سے ہیں۔ آپ کے دادا حماد بن سعید امام زین العابدین کے دوستوں میں سے ہیں۔ یہ دونوں بھائی اہل کوفہ میں سے تھے۔ لیکن بعد میں اھواز منتقل ہو گئے اور حسین قم آئے اور حسن بن ابان کے گھر قیام کیا اور تقریباً 300ء ھ میں فوت ہوئے۔ شیعہ علماء نے ان دونوں بھائیوں پر اعتماد کیا ہے اور ثقہ اور جلیل القدر جیسے الفاظ سے تعریف کی ہے۔ دونوں بھائیوں نے شیعہ مذہب کی ترویج و اشاعت کے لئے بہت کوششیں کی ہیں۔ حسن بن سعید علی بن مھزیار اور اسحاق بن ابراہیم اور علی بن ریان کی ہدایت کا سبب بنے اور انہیں امام رضا کی خدمت میں پہنچایا۔ ان دونوں بزرگوں کی خصوصیات میں دونوں کا ملکر تالیفاتی کام انجام دینا ہے۔ علم رجال کے منابع میں 30آثار ان بھائیوں کے نام سے درج ہیں۔ حسین بن سعید کی کتاب الزھد خاص شہرت رکھتی ہے اور اس وقت بھی محققین اس سے بھرہ مند ہو رہے ہیں۔ ابن ندیم ان دونوں کی توصیف میں لکھتے ہیں ہر کسی سے فقہ ‘ آثار‘ مناقب اور علوم شیعہ میں دانا ترہیں۔شیخ صدوق بھی حسین بن سعید کی کتابوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ حسین بن سعید کا نام سلسلہ سند میں تقریبا ً پانچ ہزار مرتبہ آیا ہے۔ ابن ابی عمر‘ حسن بن محبوب‘ احمد بن محمد بن ابی نصر‘ عثمان بن عیسیٰ‘ حماد بن عیسیٰ آپ کے اساتذہ اور سعد بن عبداللہ‘ احمد بن محمد بن خالد‘ علی بن مھزیار اور ابراہیم بن ہاشم آپ کے شاگردوں اور روایت نقل کرنے والوں میں سے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
|
No comments:
Post a Comment