عبداللہ بن جعفر الحمیری ابو العباس عبداللہ بن جعفر حمیری قم کے بزرگ علماء اور شیعہ کے درخشندہ ستارے ہیں آپ امام علی نقی اور امام حسن عسکری کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ 290ئھ کو کوفہ میں داخل ہوئے کوفہ کے لوگ آپ کے بیانات سے استفادہ کرتے۔ آپ نے وہاں پر اپنے شاگردوں کی تربیت کرنا شروع کی۔ آپ یمنی الاصل سمجھے جاتے ۔ علماء علم رجال آپ کو ثقہ اور قابل اطمینان سمجھتے ہیں اور آپ کے بہت سے قلمی آثار کو بیان کرتے ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔ الامامة ‘ الدلائل‘ العظمة والتوحید‘ الغیبة والغیبة والحیرہ‘ الطب‘ المسائل و التوقیعات آپ کا ایک اور قیمتی اثر کہ جو باقی رہ گیا ہے قرب الاسناد ہے۔ قرب الاسناد وہ کتا ب ہے کہ جو قدیم محدثین میں رائج تھی۔ اس میں عالی السند احادیث اور امام تک کم واسطہ تک پہنچنے والی روایات کو جمع کیا گیا ہے۔ علی بن ابراہیم ‘ محمد بن عیسیٰ‘ یقطینی اور علی بن بابویہ بھی قرب الاسناد رکھتے ہیں لیکن صرف قرب الاسناد حمیری ہی اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ کہ جس میں نزدیک ترین سند امام صادق اور امام کاظماور امام رضا تک پہنچنے والی روایات کو جمع کیا گیا ہے۔ ابراہیم بن شھریار‘ احمد بن حمزہ‘ محمد بن عیسیٰ آپ کے اساتذہ اور احمد بن محمد‘ سعد بن عبداللہ ‘ محمد بن سعید آزربائیجانی کو آپ کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ محمد بن عبداللہ آپ کے بیٹے نے بھی آپ کے علم سے فائدہ اٹھایا بعض قرب الاسناد کو آپ کے ساتھ نسبت دیتے ہیں۔ |
No comments:
Post a Comment